Doodara

باغ کا راز

Guest

About this story

باغ کا راز

by Guest · Watercolor · Ages 3–5 · 10 pages

سید امیر حمزہ دادی کی پیچھے والی جالی دار دیوار کے چھوٹے سوراخ میں سے اُلٹا اُتر آیا۔ چہرہ ٹھکی ہوئی گھاس میں بھلا۔ آس پاس پھول آہستہ آہستہ گنگناتے رہے۔

Read the full story text

سید امیر حمزہ دادی کی پیچھے والی جالی دار دیوار کے چھوٹے سوراخ میں سے اُلٹا اُتر آیا۔ چہرہ ٹھکی ہوئی گھاس میں بھلا۔ آس پاس پھول آہستہ آہستہ گنگناتے رہے۔

اُس نے آنکھیں کھلیں۔ تلیوم کے پتے سے ایک چمکتا ستارہ نکل آیا—پاپ!—بالائی طرف جھمکا ہوا ریشہ کھینچتا ہوا اُڑا۔

اُس نے دوسرے پتے کو پکڑا، کھینچا۔ خاموشی۔ پھر زور سے کھینچا—دوبارہ—کچھ نہیں نکلا۔

گھٹنوں پر بیٹھا، گانے والے ڈائیزی کو کھینچا۔ ڈائیزی چھل بولا۔ باغ کی آواز ٹکڑی ہو گئی، رنگ کمزور ہو گئے۔

ہاتھ چھوڑا، گندے جوتوں کو دیکھا۔ مٹی والا پنجا زمین پر کھچایا۔ وہ سوچا: اوہ نہیں۔ پھر نظر پڑی—خشک مٹی میں ایک ننھا سرخ گلاب، پتیاں بند۔

ننھا گلاب سکھنڈے سے بولا: "تھوپنا نہیں۔ بس… پانی دو۔" اُس نے قریب جھکی۔ ایک کھلا پتہ کانپ رہا تھا۔

اُس نے نیچے دیکھا۔ اپنے ہاتھ خشک تھے، انگلیوں پر مٹی چمک رہی تھی۔ پانی چاہیے تھا۔

انگلیوں سے ٹھنڈی مٹی کھسے، گلاب کی جڑوں کے گرد رکھی۔ آہستہ، دھیمی وار۔ "ننھی دوست، تمہیں تو اتنا ہی چاہیے تھا۔"

پتیاں ایک ایک کر کے کھلتی گئیں، سرخ سے گلابی۔ نرم روشنی جڑ سے ٹہنی تک چڑھی۔ اُس نے مسکایا—ناخن مٹی سے چمکے۔

ہاتھ میں پانی بھریا—پٹھاڑ! مٹی پر۔ دوبارہ، پھر دوبارہ۔ باغ جوش میں آیا، ستارے پتوں سے پاپ پاپ پاپ نکلے۔ "دوبارہ!" اُس نے چلائے۔ باغ نے گانا واپس کیا۔